ایجپٹ ایئر: ’پائلٹس کاک پٹ میں لگی آگ بجھا رہے تھے‘

ایجپٹ ایئر: ’پائلٹس کاک پٹ میں لگی آگ بجھا رہے تھے‘

 رواں سال مئی میں بحیرہ روم میں گر کر تباہ ہونے والے مصری ایئر لائن کے جہاز کے وائس ریکارڈر سے معلوم چلا ہے کہ پائلٹس کاک پٹ میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے تھے جب جہاز گرا۔

ذرائع کے مطابق وائس ریکارڈر سے ملنی والی اطلاعات کے مطابق کاک پٹ میں دھواں بھر گیا تھا۔

مصری حکام کے مطابق جہاز کے خودکار الیکٹرانک نظام نے پیغام بھیجا تھا کہ ٹوائلٹ اور کاک پٹ کے نیچے نصب الیکٹرانک آلات کے حصے میں دھوئیں کی نشاندہی کرنے والے آلات بند ہو گئے تھے۔

حکام کے کا کہنا ہے کہ یہ پیغام اس وقت بلیک باکس میں ریکارڈ ہوا جب اس کے چند منٹ بعد جہاز حادثے کا شکار ہو گیا۔

اس حادثے کی تحقیقات کرنے والے مصری حکام کے مطابق جہاز کے سامنے والے حصے پر بہت زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے نشانات ملے ہیں۔

حادثے میں جہاز کے دوسرے بلیک باکس کو نقصان پہنچا تھا اور اس کی پیرس میں مرمت کی گئی۔خیال رہے کہ 19 مئی کو ایجپٹ ایئر کی پیرس سے قاہرہ جانے والی پرواز ایم ایس 804 بحیرۂ روم میں گر کر تباہ ہوگئی تھی اور اس میں سوار تمام 66 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ فلائٹ ریکارڈر مصری ساحل سے 290 کلومیٹر شمال میں 3,000 میٹر گہرائی سے جہاز کے ملبے سے ملے تھے۔

جہاز کی بلندی 11 ہزار میٹر سے کم ہو کر 4,600 میٹر ہوئی اور پھر جہاز 3,000 میٹر کی بلندی پر آنے کے بعد لاپتہ ہو گیا۔