مصر میں کشتی الٹنے سے کم از کم 29 مہاجرین ہلاک

مصر میں کشتی الٹنے سے کم از کم 29 مہاجرین ہلاک

قاہرہ،21/ستمبر0ایجنسیاں): مصر میں بحیرہ روم کے قریب ایک مہاجرین سے بھری ایک کشتی الٹ گئی جس میں تقریبا 600مہاجرین سوار تھے۔ کشتی پلٹنے سے 29 مہاجرین ہلاک ہو گئے ہیں اور باقی لوگوں کو امدادی ٹیموں نے بچا لیا ہے۔

مصر کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ 29 لوگوں کے ڈوب کر ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 150 مسافروں کو بچا لیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کہنا ہے کہ الٹنے سے پہلے کشتی نے رشيد نامی شہر کے قریب سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دریائے نیل بحیرہ روم میں گرتا ہے۔ لیکن کشتی محض پانچ کلومیٹر کا فاصلہ  طے کرنے کے بعد الٹ گئی۔

پناہ کی تلاش اور بہتر مستقبل کی خاطر یورپ جانے والے براعظم افریقہ اور مشرق وسطی ٰ کے اکثر تارکین وطن بحیرہ روم کے راستے کمزور کشتیوں کے ذریعے پر خطر اور جان لیوا سفر کرنے کے لیے مصر کا انتخاب کرتے ہیں۔

پناہ گزینوں سے متعلق بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس سال کے آغاز سے اب تک سمندر عبور کرکے یورپ جانے کی کوشش میں 3200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔