چاند پر 45 برس قبل گھرانے کی تصویر پھینکنے والا آج حسرت کی تصویر

چاند پر 45 برس قبل گھرانے کی تصویر پھینکنے والا آج حسرت کی تصویر

یقینا آپ نے ایسی یادداشتوں کا مشاہدہ کیا ہوگا جو کسی دیوار پر یا کسی کتاب کے اندر مدوّن کی گئی ہوں۔ اس کے علاوہ آپ نے کسی پتھر یا چٹان پر کندہ کیے گئے محبت کرنے والوں کے نام بھی دیکھے ہوں گے۔ تاہم 20 اپریل 1972 کو چاند کی سطح پر اترنے والے خلا نورد چارلس ڈیوک نے اس حوالے سے منفرد اور انوکھا کام کیا کہ انہوں نے چاند کی سطح پر اپنے گھرانے کی تصویر پھینک دی۔ ایک پلاسٹک کا غلاف چڑھا کر چاند پر چھوڑی جانے والی تصویر میں ڈیوک اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ نظر آ رہے ہیں اور یہ تصویر 45 برس گزر جانے کے بعد آج بھی ایک یادگار کے طور پر باقی ہے۔

چاند کی سطح پر پہنچنے والے دسویں انسان چارلس ڈیوک نے تصویر کے پیچھے یہ عبارت تحریر کر دی تھی ' یہ زمین سے تعلق رکھنے والے خلا نورد چارلی ڈیوک کا گھرانہ ہے جو 20 اپریل 1972 کو چاند کی سطح پر اترا'۔

ایک انگریزی ویب سائٹ 'بزنس اِن سائڈر' سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیوک نے بتایا کہ 45 برس قبل کیے جانے والے سفر میں ان کی عمر 36 برس تھی اور وہ چاند پر پہنچنے والے کم عمر ترین خلا نورد قرار دیے گئے۔

ڈیوک کے انکشاف کے مطابق تصویر کو چاند پر چھوڑ کر آنے کا خیال ان کے بچوں کے سبب آیا جنہوں نے خطرات اور جاں بازی سے گھرے اس سفر میں اپنے باپ کے ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کی۔ ڈیوک اس وقت 'اپولو 16' کے مشن کی ٹیم کے ساتھ فلوریڈا میں طویل تربیتی پروگرام میں شریک تھی جس کے سبب وہ ہیوسٹن میں مقیم اپنے گھرانے کو دیکھنے سے بھی محروم تھے۔ اس پر ڈیوک کے ذہن میں خیال آیا کہ وہ تصویر کی صورت میں اپنے گھر والوں کو سفر میں ساتھ لے کر جائیں گے اور پھر یادگار کے طور پر تصویر کو چاند پر ہی چھوڑ دیں گے۔ تقریبا 11 روز تک جاری رہنے والے اس سفر میں ڈیوک اور ان کے ساتھی چاند کی سطح سے 94.7 کلوگرام مٹی اور چٹانوں کے پتھر لے کر آئے۔

ڈیوک سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس طویل عرصے کے بعد وہ تصویر کس حالت میں ہو سکتی ہے تو انہوں نے حسرت بھرے لہجے میں جواب دیا کہ ' میری توقع کے مطابق وہ تصویر اچھی حالت میں نہیں ہے۔ ہم جس حصے میں اترے تھے وہاں پر درجہ حرارت 400 ڈگری فارن ہائٹ تک بڑھ جاتا ہے اور رات میں صفر درجے تک نیچے آ جاتا ہے۔ میرے اندازے کے مطابق وہ تصویر سُکڑ گئی ہو گی بلکہ غالبا مٹ چکی ہو گی'۔

ڈیوک نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے پاس ایسے وسائل نہیں جو انہیں اس تصویر کو اور اس پر مرتب ہونے والے اثرات کو دیکھنے میں مدد دے سکیں۔ انتہائی چھوٹے حجم کی تصویر ہونے کے سبب مصنوعی سیارے بھی اس کو فلم بند نہیں کر سکتے۔ تاہم ڈیوک کو یہ سوچ کر اطمینان حاصل ہو جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ اور دونوں بچوں کو چاند پر پہنچا دیا۔