سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ملک بھر کے این جی اوز کا آڈٹ کادیاحکم

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ملک بھر کے این جی اوز کا آڈٹ کادیاحکم

 سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ملک بھر میں غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کا آڈٹ کرانے کی ہدایت دی ہے۔ چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے عرضی گزاروں میں سے ایک منوہر لال شرما اور اٹارنی جنرل مکل روہتگی کی تفصیلی دلیلیں سننے کے بعد مرکزی حکومت کو ملک بھر کے این جی او کا آڈٹ کرانے کی ہدایت دی۔ معاملے کی آئندہ سماعت پانچ اپریل کو ہوگی۔ درخواست گزار مسٹرشرما نے کہا کہ ملک بھر کی 32 لاکھ غیر سرکاری تنظیموں میں سے صرف تین لاکھ تنظیمیں بیلنس شیٹ فائل کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جو این جی اوز اپنی بیلنس شیٹ پیش نہیں کرتی ہیں اور عوامی دولت کا غلط استعمال کرتی ہیں، ایسے این جی او کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس نے مرکزی حکومت کو ایسے این جی او کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔

عدالت نے سماعت کے دوران این جی اوز کو مل رہے فنڈ پر نظر رکھنے کے لئے مناسب طریقہ کار تیار نہیں کرنے کے لئے مرکزی حکومت کی تنقید بھی کی۔ اس نے دیہی ترقیات کی وزارت کے سکریٹری کو دوپہر بعد دو بجے تک ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ مرکزی تفتیشی بیورو نے عدالت کو اپنے جواب میں کہا کہ 2999623 این جی اوز میں سے محض 290787 این جی اوز سالانہ بیلنس شیٹ داخل کرتی ہیں۔ اس پر عدالت نے کہا کہ حکومت این جی او کے لئے سالانہ بڑی رقم جاری کرتی ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کا کوئی ریکارڈ اس کے پاس نہ ہو۔