یوپی الیکشن:  دوسرے مرحلے کے الیکشن میں 721 امیدواروں کی قسمت داؤ پر

یوپی الیکشن:  دوسرے مرحلے کے الیکشن میں 721 امیدواروں کی قسمت داؤ پر

لکھنؤ۔  ریاستی اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کل مغربی اتر پردیش کے 11 اضلاع کی 67 سیٹوں پر ہونے والی پولنگ کے لئے وسیع پیمانہ پر سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ اس مرحلے میں سوشلسٹ پارٹی (ایس پی) کے قدآور لیڈر اور صوبے کے وزیر محمد اعظم خاں ان کے بیٹے عبداللہ اعظم، وزیر محبوب علی، سابق مرکزی وزیر جتن پرساد اور عمران مسعود سمیت 721 امیدواروں کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔

 دوسرے مرحلے میں 2.60 کروڑ سے زائد رائے دہندگان الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ذریعے صبح سات بجے سے شام پانچ بجے تک اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں گے۔ اس مرحلے میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)، راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) اور سماج وادی پارٹی۔ کانگریس اتحاد کے درمیان دلچسپ مقابلہ رہے گا۔ اس مرحلے کے مسلم اکثریت والے علاقوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) ۔کانگریس اتحاد کے درمیان سہ رخی مقابلہ ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔ اس مرحلے میں بجنور، رام پور، مرادآباد، بریلی اور بدایوں جیسے حساس سمجھے جانے والے علاقوں کی 67 نشستوں کیلئے 721 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔اس میں 15 فیصد امیدواروں کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہیں جبکہ 36 فیصد کروڑ پتی امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔

یوپی میں دوسرے مرحلے کے الیکشن میں اعظم خاں اور جتن پرساد سمیت 721 امیدواروں کی قسمت داؤ پر
آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے الیکشن مکمل کرانے کے لئے پولنگ اہلکار اور مرکزی نیم فورس پولنگ مراکز پر پہنچ چکے ہیں جبکہ حساس مقامات پررائے دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لئے سلامتی دستے فلیگ مارچ کررہے ہیں۔ ووٹنگ کے دوران ہیلی کاپٹر اور ڈرون کیمرے کے ذریعے امن و قانون کی صورت حال پر نظر رکھی جائے گی۔ تقریبا تمام مراکز پر ویڈیو ریکارڈنگ اور کئی مراکز پر پولنگ کی لائیو کوریج ہوگی۔اس درمیان ریاست کے الیکشن افسر ٹی وینکٹیش نے آج یہاں یو این آئی کو بتایا کہ دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لئے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ پولنگ پارٹیاں طے شدہ مراکز پر پہنچ رہی ہیں۔

ان میں سہارنپور، بجنور، مرادآباد، سنبھل، رام پور، بریلی، امروہہ، پیلی بھیت، لکھیم پور کھیری، شاہ جہاں پور اور بدایوں اضلاع کے بیہٹ، نکوڑ، سہارنپور نگر، سہارنپور، دیوبند، رام پور منی ہارن (محفوظ) گنگوہ، نجیب آباد، نگینہ (محفوظ)، بڈاپور، دھامپور، نہٹور (محفوظ)، بجنور، چاند پور، نورپور، کانٹھ، ٹھاکردوارا، مرادآباد دیہی، مرادآباد شہر، کدرکی، بلاری، چندوسی (محفوظ)، اسمولی، سنبھل، گنور، سوار، چمرووا، بلاس پور، رام پور، ملک( محفوظ)، بہیڈی، میرگنج، بھوجی پورا، نواب گنج، فرید پور (محفوظ)، بتھری چین پور، بریلی، بریلی کینٹ، آنولہ، دھنورا (محفوظ)، نوگاو سادات، امروہہ، حسن پور، پیلی بھیت، برکھیڈا، پورنپور (محفوظ)، بلاسپور، پلیا، نگھاسن، گولہ گوکرن ناتھ، شری نگر (محفوظ)، دھورہرا، لکھیم پور، کستا (محفوظ)، محمدی، کٹرا، جلال آباد، تلہر، پوایا (محفوظ)، شاہ جہاں پور، ددرول، بسولی(محفوظ)، سہسوان، بلسی، بدایوں، شیخ پور اور دانتاگنج اسمبلی سیٹوں پر کل صبح سات بجے سے پولنگ ہوگی۔

اس مرحلے میں مغربی اتر پردیش کے 11 اضلاع کی بیشتر نشستوں پر مسلم ووٹ ہار جیت میں اہم کردارادا کریں گے۔ تقریبا 70 فیصد نشستوں پر 30 فیصد سے زیادہ مسلم رائے دہندگان ہیں۔ صرف رام پور ضلع میں 70 فیصد مسلم آبادی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے 15 سیٹوں پر 64 مسلمان امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے جن میں ایس پی ۔کانگریس، بی ایس پی، راشٹریہ لوک دل اور دیگر پارٹیاں شامل ہیں۔ سال 2012 کے اسمبلی انتخابات میں 67 نشستوں میں سے سماجوادی پارٹی نے 34، بی ایس پی نے 18، بی جے پی نے دس، کانگریس نے تین اور دیگر نے دو پر جیت حاصل کی تھی۔ اتراکھنڈ سے ملحق اضلاع اور روہیل کھنڈ علاقوں میں اسی مرحلے میں پولنگ ہوگی۔ ان علاقوں کے آس پاس کے علاقوں میں پہلے مرحلے میں ہوئے انتخابات میں جم کر پولنگ ہوئی تھی جبکہ اتراکھنڈ میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کے ساتھ کل پولنگ ہوگی۔ انتخابات میں امن و قانون اور ترقی سیاسی جماعتوں کا اہم ایجنڈا رہا ہے۔ بی جے پی نے الیکشن میں فرقہ وارانہ فسادات، مظفرنگر فسادات، سلاٹر ہاؤس جیسے مسائل کو اٹھایا ہے۔ دوسری جماعتوں نے بھی مرکزی حکومت اور بی جے پی کے خلاف سیکولرازم کا معاملہ اٹھاکر اسے گھیرنے کی کوشش کی ہے۔

دوسرے مرحلے میں حساس بجنور، سنبھل، رام پور، مرادآباد، بریلی اور بدایوں اضلاع میں پولنگ ہوگی۔ انتخابی مہم کیلئے تمام جماعتوں نے اپنے بڑے لیڈروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں نے مسلم اکثریتی علاقوں میں جم کر انتخابی مہم چلائی۔ وزیر اعظم نریندر مودی بجنور اور بدایوں میں عوامی ریلیاں کر چکے ہیں کئی مرکزی وزیر بھی اس مرحلے میں عوامی ریلیاں کر چکے ہیں۔ بی ایس پی صدر مایاوتی، کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے کئی عوامی جلسے کئے ہیں اور ایس پی صدر اور اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے بھی کئی عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔قنوج پارلیمانی سیٹ سے ایس پی ممبر پارلیمنٹ اور وزیر اعلی اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو، معروف اداکارہ اور ایس پی کی راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ جیا بچن کئی عوامی جلسوں سے خطاب کر چکی ہیں۔ پہلے اور دوسرے مرحلے کے انتخابات میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی، ان کی بیٹی پرینکا گاندھی اور ملائم سنگھ یادو نے انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا۔ راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) نے دوسرے مرحلے کے انتخابات میں 40 امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ پارٹی صدر اجیت سنگھ، ان کے بیٹے جینت چودھری اور بہو چارو چودھری انتخابی تشہیر میں شامل رہی تھیں۔ طویل عرصہ کے بعد آر ایل ڈی نے کسی پارٹی سے اتحاد نہیں کیاہے۔