روہنگیا مسلمانوں پر ہویے ظلم سے وہ بنگلہ دیش میں جاکر اپنی جان بچانے کو

روہنگیا مسلمانوں پر ہویے ظلم سے وہ بنگلہ دیش میں جاکر اپنی جان بچانے کو

 

دو ہفتے سے کم وقت میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ روہنگیا مسلمان میانمار میں تشدد سے بھاگ کر بنگلہ دیش کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ اطلاع حکام نے آج دی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے میانمار میں نسلی  در بدری (نسل کشی) کے خطرے کا انتباہ دیا ہے، جس سے خطے میں بڑے وسیع پیمانے پر عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ میانمار کی رہنما آنگ سان سوکی نے راخین میں تشدد پر غلط معلومات پھیلانے کے لئے دہشت گردوں کو مورد الزام ٹھہرایا لیکن انہوں نے گزشتہ 25 اگست سے تشدد کا شکار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کے بنگلہ دیش فرارہونے کا کوئی ذکر نہيں کیا۔

مسلم اکثریتی ممالک بالخصوص انڈونیشیا کی طرف سے آنگ سان سوکی پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے، جہاں متعدد مسلم جماعتوں کی قیادت میں ہزاروں مظاہرین نے آج جکارتہ میں ریلی نکالی اور بدھسٹ اکثریتی ملک میانمار کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنے مکتوب میں سکریٹری جنرل انٹونیو گتیرز نے تشویش ظاہر کی ہے کہ میانمار میں تشدد خطے میں انسانی تباہی کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔