راہل گاندھی نے کہا  جی ایس ٹی کے لئے احتجاج جاری رکھیں

راہل گاندھی نے کہا  جی ایس ٹی کے لئے احتجاج جاری رکھیں

​​​

نئی دہلی۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے آج کہا کہ حکومت نے دباؤ میں کئی چیزوں پر اشیا اور سروس ٹیکس (جی ایس ٹی)کی 28فیصد شرح کو ختم کردیا ہے۔لیکن جی ایس ٹی کی شرح 18فیصد سے زیادہ نہ ہو اس کےلئے پارٹی اس میں مکمل طورپر تبدیلی کے لئے احتجاج جاری رکھے گی۔ جی ایس ٹی کونسل کی گوہاٹی میں جمعہ کو ہوئی میٹنگ میں 178چیزوں پر جی ایس ٹی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مسٹر گاندھی نے جی ایس ٹی کونسل کے فیصلے پر  ٹویٹ کرتے ہوئے کہا،’’ہندوستان کو گبر سنگھ ٹیکس نہیں، آسان جی ایس ٹی چاہئے۔ کانگریس اور ملک کے عوام کے احتجاج نے کئی چیزوں پر 28فیصد کا ٹکیس ختم کروایا ہے۔ پارٹی 18فیصد کی زیادہ سے زیادہ جی ایس ٹی شرح پر ایک ریٹ کے لئے احتجاج جاری رکھے گی۔ اگر بی جےپی یہ کام نہیں کرےگی،تو کانگریس کرکے دکھائےگی۔‘‘ سابق وزیرخزانہ پی چدمبرم نے بھی گوہاٹی میں جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں کئے گئے فیصلوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو جی ایس ٹی میں اس خامی کو سمجھنے میں چار ماہ دس دن کا وقت لگ گیا۔ انہوں نے ٹویٹ کیا،’’جی ایس ٹی کی حد 1فیصد ہونی چاہئے اس سلسلے میں کانگریس اور میری بات صحیح ثابت ہوئی ہے۔‘‘ اس دوران کانگریس مواصلاتی محکمے کے چیف رندیپ سنگھ سرجے والا نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ کانگریس کی حکومت نے جو جی ایس ٹی تیار کیا تھا مودی حکومت نے اسے بدل کر ٹیکس کی کئی شرحیں طے کیں اور اب اپنی بھول سدھارنے کےلئے اس میں قسطوں میں تبدیلی کی جارہی ہے۔مودی حکومت نے جی ایس ٹی کو ’گبر سنگھ ٹیکس‘بنا دیا ہے جس سے مودی حکومت کے چہیتے چند سرمایہ کاروں کو ہی فائدہ