مولانا ارشد مدنی نے کہا مرکز کی مودی حکومت آسام کو بھی میانمار بنا دینے پر ہے آمادہ

مولانا ارشد مدنی نے کہا مرکز کی مودی حکومت آسام کو بھی میانمار بنا دینے پر ہے آمادہ

 

نئی دہلی: مرکز اور ریاست میں بر سر اقتدار حکومت آسام کوبھی میانمار بنا دنے پر آمادہ ہے۔ تقریباً 27لاکھ خواتین کے سر پرغیر ملکی شہریت کی تلوار لٹک رہی ہے ، کیا یہ ان سب کو بنگلہ دیش دھکیلنے کی سازش ہے ؟ اگر ایسا ہوا تو یہ نہ صرف آسام بلکہ پورے ملک کے لئے بے حد نقصان دہ ہوگااور ملک کی یکجہتی و امن و امان کے لئے خطرہ لا حق ہوجائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار آج کانسٹی ٹیوشن کلب میں دہلی ایکشن کمیٹی فار آسام کے زیر اہتمام آسام کی تازہ سیاسی صورتحال سے تعلق سے منعقد سمینار اورپریس کانفرنس کے دوران جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کیا۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا مدنی نے کہا مرکز اور صوبہ آسام کی حکومتیں دونوں ہی آسام میں این آر سی کے کام کو مکمل کرانے میں رخنہ پیدا کر رہی ہیں اور خواتین کی غیر ملکی شہریت کے معاملے کو حل کرنے میں بھی تعصب بینی کا ثبوت دے رہی ہیں ۔این آر سی کے معاملے میں تو آسام کے وزیر اعلیٰ کی سپریم کورٹ سے سرزنش بھی کی جا چکی ہے ۔مولانا مدنی نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ میانمار میں بھی پہلے روہنگیا مسلمانوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کیا گیا اور انہیں سرحد پار بنگلہ دیش میں دھکیل دیا گیا ۔ ایسا ہی کچھ اب آسام میں ہو رہا ہے جہاں تقریباً27لاکھ خواتین غیر ملکی قرار دئے جانے کے دہانے پر ہیں ۔