لودھا کمیٹی کی وجہ سے بڑھ سکتی ہیں عہدیداران کی مشکلیں

لودھا کمیٹی کی وجہ سے بڑھ سکتی ہیں عہدیداران کی مشکلیں

 ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر انوراگ ٹھاکر اور سکریٹری اجے شرکے کو سپریم کورٹ کی طرف سے برخاست کئے جانے کے بعد کرکٹ بورڈ کے سامنے اب اپنے تمام عہدیدار گنوانے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے دو جنوری کے حکم میں ترمیم کی لوڈھا کمیٹی کی تشریح صحیح پائی جاتی ہے تو بی سی سی آئی کے سامنے خطرہ کہیں زیادہ بڑا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ بی سی سی آئی کے تمام موجودہ عہدیداروں اور ریاستی ایسوسی ایشن میں زیادہ تر سینئر منتظمین کو ہٹنا پڑ سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے دو جنوری کے اپنے حکم میں عہدیداروں کی قابلیت کے سلسلے میں ایک اوپنين میں منگل کو نظر ثانی کی ہے۔پہلے حکم میں کہا گیا تھا کہ کوئی شخص عہدیدار بننے سے تب نااہل ہو سکتا ہے اگر وہ کل نو سال کی مدت کے لیے بی سی سی آئی کا عہدیدار رہا ہو لیکن عدالت نے منگل کو اس میں ترمیم کی کہ کوئی شخص عہدیدار بننے سے تب نااہل ہو سکتا اگر وہ بی سی سی آئی یا ریاستی یونین میں کل نو سال کی مدت کے لیے عہدیدار رہا ہو۔

اس ترمیم میں لوڈھا کمیٹی کی تشریح کے مطابق اگر کوئی شخص بی سی سی آئی یا ریاستی سطح پر یا دونوں کو ملا کر کل نو سال کے لئے عہدیدار رہا ہو تو وہ فوری طور پر بی سی سی آئی یا ریاستی سطح کا عہدیدار نہیں بن سکتا ہے۔سمجھا جاتا ہے کہ لوڈھا کمیٹی نے اس معاملے میں بی سی سی آئی کے وکیل سمیت دیگر وکلاء سے بات چیت کرنے کے بعد اس کی تشریح نکالی ہے۔

پہلے حکم کو دیکھا جائے تو کوئی شخص بی سی سی آئی یا اس کی ریاستی ایسو سی ایشن میں کل 18 سال گزار سکتا تھا لیکن اس صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا اور 18 سال کی اس مدت کو براہ راست کم کرکے کل نو سال کر دیا چاہے وہ بی سی سی آئی یا ریاستی سطح پر ہو یا دونوں ملا کر ہو۔ نئی تشریح کا مطلب ہے کہ موجودہ منتظمین میں بنگال کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر سوربھ گنگولی اور حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر ارشد ایوب ہی اپنے عہدوں پر رہ سکتے ہیں جبکہ زیادہ تر عہدیدار ریاستی سطح پر نو سال سے زیادہ گزار چکے ہیں۔

اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ بی سی سی آئی کا کوئی عبوری صدر نہیں ہو سکتا ہے جیسا پہلے عدالت نے ٹھاکر کو ہٹانے کے بعد ہدایت دی تھی۔عدالت نے پہلے کہا تھا کہ بی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر بورڈ کا صدر کاعہدہ سنبھال سکتے ہیں۔ موجودہ عہدیداروں میں ایک نائب صدر ایم ایل نہرو 78 سال کے ہیں اور لوڈھا کمیٹی کی 70 سال کی عمر کی حد سے زیادہ ہیں جبکہ چار دیگر سی کے کھنہ، جی کے گنگ راجو، ترکان میتھیو اور گوتم رائے تمام ریاستی ایسوسی ایشن میں نو سال سے زیادہ وقت سے عہدیدار ہیں ۔

اس تشریح کے مطابق ان میں سے کوئی اب کسی بھی سطح پر عہدیدار نہیں رہ سکتا ہے ۔ عہدیدار کیلئے قابل ہونے کو لے کر ابہام کی وجہ سے بی سی سی آئی نے بدھ کو اپنی ویب سائٹ سے تمام عہدیداروں کے نام ہٹا دیے ہیں۔پیر کو عدالت نے کہا تھا کہ سینئر نائب صدر اور جوائنٹ سکریٹری بالترتیب عبوری صدر اور سیکرٹری کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں لیکن نئے حکم کے بعد کشمکش کی حالت پیدا ہو گئی ہے کہ کون عہدیدار بنے رہ سکتے ہیں۔

بی سی سی آئی کے عہدیدار ریاست اور بورڈ کی سطح پر کل نو سال کی مدت کو لے کر الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔فی الحال بی سی سی آئی کے سی ای او راہل جوہری سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق بورڈ کی 19 جنوری تک قیادت کریں گے جب تک منتظمین پینل مقرر نہیں ہو جاتا۔ جوہری نے ہی کل ایک بیان جاری کر کے بتایا تھا کہ جمعہ کو ممبئی میں سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ ہوگی جس میں انگلینڈ کے خلاف محدود اوورز کی سیریز کے لیے ہندستانی ٹیمیں منتخب ہوں گی۔ جوہری نے اس سے پہلے اس میٹنگ کو بلانے سے پہلے لوڈھا کمیٹی سے بھی تبادلہ خیال کیا تھا اور کمیٹی نے ان سے خود یہ اجلاس بلانے کے لیے کہا تھا۔