جاوید اخترنے کہا نہیں دیکھا جانا چاہئے پدماوتی فلم کو تاریخ کے نظریہ سے

جاوید اخترنے کہا نہیں دیکھا جانا چاہئے پدماوتی فلم کو تاریخ کے نظریہ سے

 

نئی دہلی۔  نامور نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر نے آج کہا کہ ملکہ پدماوتي کی کہانی تاریخی نہیں ہے اور فلم کو تاریخ کے نظریئے سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ مسٹر اختر نے ایک نیوز چینل کی طرف سے یہاں منعقدہ ایک پروگرام میں سوالات کے جواب میں، کہا کہ تاریخ میں رانی پدماوتی کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ پدماوتی کی کہانی اتنی نقلی ہے جتنی کہ سلیم اور انارکلی کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اکبر کی جودھابائي نام کی کوئی بیوی نہیں تھی لیکن ’جودھا اکبر‘ فلم بن گئی اور ’مغل اعظم‘ فلم میں بھی جودھابائي تھیں۔

انہوں نے نوجوان نسل کو مشورہ دیا کہ اگر انہیں تاریخ میں واقعی دلچسپی ہے تو اسے فلموں کی بجائے سنجیدہ کتابیں پڑھنی چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’فلموں کو تاریخ مت سمجھئے اور تاریخ کو بھی فلم کے نقطہ نظر سے نہ دیکھیں ۔ غور سے فلم دیکھئے اور فلموں کا لطف اٹھائیے۔ اگر تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو تاریخ کو سنجیدگی سے پڑھیں‘‘۔ مسٹر اختر نے کہا، ’’میں مؤرخ نہیں ہوں لیکن جو اہم مؤرخ ہیں انہیں پڑھ کر آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ ٹی وی پر تاریخ کے ایک پروفیسر کو سن رہا تھا جو یہ بتا رہے تھے کہ’پدماوتی‘کی تخلیق اور علاء الدین خلجی کے وقت میں کافی فرق تھا۔ خلجی کے دور حکومت اور شاعر ملک محمد جايسي نے جس وقت پدماوت لکھا دونوں میں 200 سے 250 سال کا فرق تھا۔ جائسی کی ’پدماوت‘ سے پہلے رانی پدماوتی کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔