بابری مسجد رام مندر معاملہ : شیعہ وقف بورڈ چیئرمین وسیم رضوی کی سمجھوتہ کی تجویز ناقابل قبول: اقبال انصاری

بابری مسجد رام مندر معاملہ : شیعہ وقف بورڈ چیئرمین وسیم رضوی کی سمجھوتہ کی تجویز ناقابل قبول: اقبال انصاری

          

اجودھیا : بابری مسجد کے مدعی مرحوم حاجی محمد ہاشم انصاری کے جانشین محمد اقبال نے شیعہ سنٹرل وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی کے بابری مسجد۔ رام مندر معاملے میں سمجھوتہ کی تجویز کو یکسر مسترد کردیا۔بابری مسجد کے مدعی محمد اقبال نے آج یہاں یو این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ سنٹرل وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی شیعہ اور سنی فرقہ کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے لئے مندر مسجد تنازع کے حل کے لئے تجویز پیش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی دیکھ بھال سنی فرقہ کے لوگوں نے کی ہے ۔ یہاں نمازیں بھی ادا کی ہیں ۔

مسٹر اقبال نے کہا کہ وسیم رضوی سیاست کررہے ہیں ۔ اپنی کرسی کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ لوگوں کا عدلیہ پر بھروسہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فیض آباد کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں جب معاملہ پہونچا ہے تو اچانک شیعہ سنٹرل وقف بورڈ کے صدر بیچ میں کود پڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آخر ان لوگوں نے شروع سے کیس میں پیروی کیوں نہیں کی ۔ چونکہ وسیم رضوی کے خلاف کئی الزامات ہیں اور یوگی ادیتیہ ناتھ حکومت ان کے خلاف انکوائری کراسکتی ہے اس لئے انہوں نے ریاست کی موجودہ حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اجودھیا کا چکر لگانا شروع کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی نے انہیں کل شام بلایا تھا اور معاہدہ کی تجویز پر دستخط کرنے کی بات کہی تھی۔مسٹر اقبال نے کہا کہ مسلمانوں کو اجودھیا کے سادھوسنتوں اور مسلم مذہبی رہنماوں پر پورا بھروسہ ہے۔