ہادیہ نے کہا اب میں آزاد ہوں

 ہادیہ نے کہا اب میں آزاد ہوں

کیرالہ۔کیرالہ لو جہاد معاملے میں سپریم کورٹ سے راحت ملنے کے بعد ہادیہ نے کہا کہ وہ اب آزاد ہو کر خوش ہیں۔ہادیہ نے کہا کہ اسے یہ خوشی اسی لئے ملی کیونکہ اس نے اسلام مذہب قبول کیا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہادیہ پہلی مرتبہ کیرالہ پہنچی ہیں۔8مارچ کے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے ہادیہ اور شفین جہاں کی شادی کو صحیح قرار دیا تھا۔اس شادی کو کیرالہ ہائی  کورٹ نے لو جہاد کا معاملہ مان کر رد کر دیا تھا۔

ہادیہ نے کوجھی کوڑ میں اپنے شوہر شفین جہاں کے ساتھ پاپلر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے ملاقات کی۔یہاں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے ہادیہ نے کہا کہ انہوںنے مذہب بدل کر شادی کی اس لئے ان کی شادی چرچہ کی وجہ بن گئی۔ہادیہ نے سوال کیا کہ کوئی دیگر مذہب اپنانے میں غلط کیا ہے؟اس نے کہا 'ہمارا آئین ہر کسی کو اپنا مذہب منتخب کرنے کی آزادی ۔دیتا ہے۔یہ ہر شہری کامولک حق ہے۔یہ سب ہوا کیونکہ میں نے اسلام قبول کیا'۔