دنیشور شرما کی جموں میں تقریبا 30 وفود سے ملاقات

دنیشور شرما کی جموں میں تقریبا 30 وفود سے ملاقات

جموں: مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیر کے لئے تعینات کردہ مذاکرات کار دنیشور شرما نے جمعہ کے روز بحیثیت ’مذاکرات کار‘ اپنا پہلا دورہ جموں وکشمیر کو سمیٹے ہوئے سرمائی دارالحکومت جموں میں سیاسی، سماجی اور سول سوسائٹی کی قریب 30 وفود سے ملاقات کی۔ریاستی گیسٹ ہاوس میں ہونے والی ان ملاقاتوں کے دوران بیشتر وفود نے جموں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کے انخلاء، درآمدی اشیاء پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی کا سلسلہ ختم کرنے، جموں وکشمیر کے آخری مہاراجہ ’مہاراجہ ہری سنگھ‘ کے جنم دن پر تعطیل کا اعلان کئے جانے اور صوبہ جموں کے ساتھ ہورہی مبینہ ناانصافی کے سلسلے کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ دنیشور شرما ہفتہ کی صبح واپس نئی دہلی روانہ ہوں گے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ’نامزد مذاکرات سے سیاسی، سماجی اور سول سوسائٹی تنظیموں کی قریب 30 وفود نے ملاقات کی‘۔ ان تنظیموں میں چیمبر آف ٹریڈرس فیڈریشن (جموں)، جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، جموں ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن،جموں وکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی، وشوا ہندو پریشد، ڈوگرہ صدر سبھا، آل سول سوسائٹی فورم (جموں)، رفیوجیز ایکشن کمیٹی (مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کی تنظیم)، کشمیری پنڈت ایسوسی ایشنز، جموں وکشمیر گردوارہ پربندک بورڈ، پریس کلب آف جموں، ٹرانسپورٹ یونین اور او بی سی مہا سبھا کے نام شامل ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں تین دن گذارنے کے بعد دنیشور شرما جو کہ انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ ہیں، جمعرات کو دوپہر کے وقت یہاں پہنچے۔