بی جے پی کے ١٠٠  کارکن  کو  بائک ریلی کر قتل کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے حراست میں لیا گیا

بی جے پی کے ١٠٠  کارکن  کو  بائک ریلی کر قتل کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے حراست میں لیا گیا

کرناٹک میں ’ہندو حامی کارکنوں کے سیاسی قتل ‘ کے خلاف احتجاج میں آج پابندی کے باوجود ’منگلورو چلو‘ موٹر سائکل ریلی نکالنے کی کوشش کر رہے بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے 100 سے زائد کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ریاستی حکومت نے پہلے ہی اس ریلی پر پابندی لگا دی تھی۔ پولیس انتظامیہ نے امن میں خلل ڈالنے والی سبھی طرح کی ریلیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ بی جے پی نے ریاستی حکومت کے اس قدم کی مخالفت کی اور ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا۔ یووا مورچہ کے کارکنان بڑی تعداد میں یہاں کے فریڈم پارک میں جمع ہونے لگے جہاں ریلی کو ہری جھنڈی دکھائی جانی تھی۔ موٹر سائیکلوں پر آ رہے بی جے پی حامیوں کو جگہ جگہ پولیس نے روک لیا اور 100 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

پولیس نے فرقہ وارانہ تشدد بھڑکنے کے اندیشے کے مد نظر ریلی پر پابندی لگائی تھی۔ بی جے پی نے اقلیتی نوجوانوں کی قیادت والی کچھ تنظیموں کے دائیں بازو کے کارکنوں کے سیاسی قتل میں مبینہ طور پر شامل ہونے کے تعلق سے ان پر پابندی لگانے اور معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریلی کا اہتمام کیا تھا