مدرسوں کیلئے یوپی حکومت کے سرکاری فرمان آئین سے متصادم

مدرسوں کیلئے یوپی حکومت کے سرکاری فرمان آئین سے متصادم

پروفیسر طاہر محمود نے کہا ہے کہ یوپی حکومت مدرسوں کو جو ایک کے بعد ایک فرمان سنا رہی ہے، وہ آئین کی اقلیتوں سے متعلق دفعات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پہلے یوم آزادی کی تقریبات منعقد کرکے انکی ویڈیوگرافی کرانے اور حکومت کو بھیجنے کا حکم دیا گیا پھر اپنے نام اور نصاب کی تفصیل پر مشتمل ہندی زبان میں بورڈ وغیرہ لگانے کا فرمان صادر کیا گیا۔ آئین کی تین دفعات کا ذکرکرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ دفعہ 29 اور30 اقلیتوں کو اپنی ثقافت، زبان اور رسم الخط کومحفوظ رکھنے اوراپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ا نکا نظام اپنی مرضی سے چلانے کا حق دیتی ہے اور یہ دونوں ہی حقوق حتمی اور غیر مشروط ہیں، جبکہ دفعہ350 ریاستی حکومتوں کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ اقلیتوں کے بچّوں کو مادری زبان میں تعلیم دئے جانے کی سہولت فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے ۔

پروفیسر محمود نے زور دے کر کہا ہے کہ ان تینوں دفعات کے الفاظ اور بین السطور کو ملا کر پڑھا جائے تو سرکاروں کو مدرسوں کیلئے ایسا کوئی فرمان جاری کرنے کی قانونی گنجائش نہیں نکلتی ہے۔ پروفیسر طاہر محمود نے مزید واضح کیا ہے کہ مدر سے بلاشک و شبہ ’اقلیتی اداروں‘ کی آئینی اصطلاح کے دائرے میں آتے ہیں اس لئے حکومت کو ان کیلئے کوئی فرمان جاری کرنے سے پہلے آئین و قانون کے مستند اور غیرجانبدارماہرین سے مجوزہ احکام کے آئینی جواز کے متعلق مشورہ کرنا چاہیے۔