نریندر مودی نےکانگریس اور سماج وادی پارٹی پر کسا طنز، کہا سپا نے لوک نائک اور لوہیا کی توہین کی  

نریندر مودی نےکانگریس اور سماج وادی پارٹی پر کسا طنز، کہا سپا نے لوک نائک اور لوہیا کی توہین کی  

سماج وادی پارٹی (ایس پی) پر لوک نائک جے پرکاش نارائن اور رام منوہر لوہیا کی توہین کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ایس پی، کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی اوچھی سیاست نے اتر پردیش کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ مسٹر مودی نے لکھیم پور کھیری کے جی آئی سی میدان میں منعقد پریورتن سنکلپ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد کرکے سماج وادی پارٹی نے لوہیا اور جے پرکاش نارائن کو ذلیل کیا ہے۔ جے پی نے ایمرجنسی کے دوران اس وقت کی اندرا گاندھی حکومت کی سخت مخالفت کی تھی۔ رام منوہر لوہیا بھی کانگریس کی مخالفت کرتے رہے۔ انہوں نے کہا 'ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں سماج وادی پارٹی صدر اکھلیش یادو صرف اقتدار کی خاطر کانگریس کی گود میں بیٹھ گئے ہیں۔ لوہیا اور جے پی کے آدرشو ں کو اپنانے کا ڈھول پیٹنے والی سماج وادی پارٹی کو ریاست کے عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔ '

وزیر اعظم نے کہا 'ریاستی اسمبلی کا یہ الیکشن اتر پردیش کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے بہت اہم اور تاریخی ہے۔ آپ نے کئی بار کانگریس کی حکومت دیکھی ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میں ملک کو جہاں پہنچنا چاہیے تھا وہاں نہیں پہنچا۔ کانگریس، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے اترپردیش کا بھلا نہیں کیا۔ ایس پی ،بی ایس پی اور کانگریس کی حکومتیں ہر امتحان میں فیل ہوئیں ہیں۔ ' ایس پی کو نشانہ بناتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کو گزرے ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا ہے۔ 2014 میں ہوئے اس انتخاب میں بی ایس پی کا پتہ صاف ہو گیا تھا۔ دو كنبوں کے کچھ لوگ جیت کر آئے تھے۔ ساری کوشش كنبوں کو بچانے میں لگا دی تھی۔ ریاست کے عوام نے کانگریس کو اس کے کئے کی سزا دی۔ سماج وادی پارٹی کے خواب چور چور ہو گئے اور ریاست کے عوام نے بی جے پی کو تہہ دل سے اپنی حمایت دی۔ مسٹر مودی نے کہا 'دراصل، 2014 میں ہی اکھلیش کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی تھی۔ 2014 میں خاندان کا جھگڑا نہیں تھا لیکن ایس پی صاف ہوئی۔ موجودہ انتخابات میں بی جے پی کے خوف سے اور کرسی کے لالچ میں اکھلیش کانگریس کی گود میں بیٹھ گئے ہیں۔ چاہے جتنے اتحاد کر لیں، ان کے گناہ دھلنے والے نہیں ہیں۔ '


ایس پی حکومت کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ لکھنؤ میٹرو کے لیے مرکزی حکومت نے پیسے دیے تھے مگر اکھلیش حکومت نے افتتاح کے وقت مرکز ی وزرا اور ممبر پارلیمنٹ کو نہیں بلایا تھا۔ انتخابات قریب دیکھ وزیر اعلی اکھلیش نے جلد بازی میں افتتاحی تقریب منعقد کر دی مگر نہ اسٹیشن بنے اور نہ میٹرو چلی۔ مسٹر مودی نے طنز کیا 'وزیر اعلی اکھلیش یادو نے جلد بازی میں میدانتا اسپتال کا بھی افتتاح کیا۔ اسپتال میں نہ ڈاکٹر نہ مریض صرف فیتہ کاٹ دیا۔ خالی فیتہ کاٹنے سے کام نہیں چلیگا۔ ' ریاست کی امن وقانون کی صورتحال پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا 'ریاست میں ماتا بہنیں چین پہننے سے ڈرتی ہیں۔ ریاست میں ہر دن اوسطا 20 عصمت دری کے واقعات ہوتے ہیں اور 17 قتل ہوتے ہیں۔ ہر قتل کے پیچھے سیاسی سرپرستی کی بو آتی ہے۔ پورا اترپردیش جانتا ہے کہ جیلوں میں بند مجرموں کے اشارے پر مجرمانہ وارداتوں کو انجام دیا جاتا ہے۔ اسے کام کہیں گے یا کارنامہ۔ ' انہوں نے کہا 'آپ ہمیں ایک بار خدمت کا موقع دیجئے، کٹے والے ہوں، بلاتکاری ہوں ، چاقو- چھری والے ہوں۔ چھ ماہ کے اندر اندر جیل میں ہوں گے۔ ماتاؤں بہنوں دہلی میں آپ کا ایسا بھائی بیٹھا ہے جو یہاں کا ماحول درست کر سکتا ہے۔ '