سماج اور ملک کا مستقبل تعلیم کی روشنی سے ہی تابناک ہو سکتا ہے

سماج اور ملک کا مستقبل تعلیم کی روشنی سے ہی تابناک ہو سکتا ہے

سماج اور ملک کا مستقبل تعلیم کی روشنی سے ہی تابناک ہو سکتا ہے ۔ سماج میں استاد کی حیثیت اس سنگ تراش  کی طرح ہے جو ایک پتھر یا کچی مٹی کو ایک خوبصورت شاہ کار کی شکل دیکر اس میں جان ڈال دیتا ہے۔ ہمارے سماج میں آج بھی ایسے کئی اساتذہ موجود ہیں جو سماج کے ضرورتمند طبقے کے بچوں تک تعلیم کی روشنی پہنچانے کے لئے خصوصی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ میرٹھ کے افتخار علی خان ، متین انصاری  اور کوثر جہاں انھیں چند افراد میں سے ایک ہیں جو تعلیمی خدمات کو ایک مشن کے طور پر انجام دیکر دوسروں کے لئے ایک نظیر پیش کر رہے ہیں ۔

سرکاری تعلیم گاہ میں ٹیچرکی حیثیت سے تعلیمی خدمات کی شروعات کرنے والے میرٹھ کے کیپٹن افتخارعلی، متین انصاری اور کوثر جہاں نے تعلیمی خدمات کو صرف ایک سرکاری ڈیوٹی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اہم سماجی  فریضہ کے طور پر انجام دیا ۔ کیپٹن افتخار نے جہاں اپنی اکیڈمی کے ذریعہ جھگی  جھوپڑی میں رہنے والے اور کچرا اٹھانے والے بچوں کو تعلیم سے جوڑنے کی کوشش کی ہے ۔ وہیں متین انصاری اور کوثر جہاں نے سرکاری پرائمری اسکول کی تصویر کو بدل کرعلاقے کے ضرورتمند غریب بچوں کو اسکول کی دہلیز تک لا کر انکا مستقبل سنوارنے کی کوشش کی ہے ۔ سرکاری پرائمری اسکول کو ماڈل اسکول کی شکل دینے اورغریب بچوں کے لئےغیرمعمولی تعلیمی خدمات انجام دینے کے لئے ان افراد کو پریسیڈنٹ اور خصوصی ٹیچرس ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے