‘دل کے خراب جین کے سبب اچانک موت کا خطرہ’

‘دل کے خراب جین کے سبب اچانک موت کا خطرہ’

برطانیہ میں ایک رفاحی ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں چھ لاکھ سے زیادہ افراد خراب جین کے سبب امراض قلب یا اچانک موت کے خطرے سے دو چار ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اس بات سے لا علم ہیں۔ برطانوی ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ پہلے جو اندازہ لگایا گيا تھا اس سے ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ افراد میں ایسے امراض قلب کا خدشہ ہے جس سے اچانک موت واقع ہو سکتی ہے۔

ادارے کے مطابق ورثے میں ملنے والی اس بیماری کے بارے اب زیادہ معلومات موجود ہیں۔کسی بچے میں اگر یہ مرض موروثی ہے تو ان میں اس مرض کے بڑھنے کے 50 فیصد خطرات ہیں۔ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خراب جین والے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ابھی تک اس کی جانچ پوری نہیں ہو سکی ہے۔
ہر ہفتے برطانیہ میں 35 سال یا اس سے کم عمر کے بظاہر 12 صحت مند شخص کی اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوجاتی ہے اور جس کی کوئی وجہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کا دل کتنا صحت مند تھا یا اس کی کیا حالت تھی اس کی جانچ نہیں کی گئی تھی۔

مغربی لندن کے ہونسلو میں رہنے والے 16 سالہ منندر برک کے اپنی سالگرہ کے دن بیہوش ہو جانے کے بعد ان کے اہل خانہ کے دل کی جانچ کی گئی جس میں پتہ چلا کہ اس کے چھوٹے بھائی منویر اور ان کی والدہ اندردیپ میں دل کی بیماری پیدا کرنے والے خراب جین چلے آ رہے تھے۔ اندردیپ نے کہا ہے کہ وہ اس بات سے 'صدمے میں ہیں' کہ ان کے بچوں کو یہ بیماری ان سے منتقل ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سب میں اس کے اثرات کسی نہ کسی طرح نظر آ رہے تھے۔

بہر حال برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اس کے متعلق فوری طور پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ادارے کے ڈائرکٹر پروفیسر نیلیش سمانی نے کہا: 'سچائی یہ ہے کہ برطانیہ میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جنھیں یہ علم نہیں کہ وہ اچانک موت کے خطرے سے دو چار ہیں۔'

انھوں نے کہا: 'اگر اس مرض کا پتہ نہیں چلا اور اس کا علاج نہیں کیا گيا تو یہ مہلک ہو سکتا ہے اور کنبوں کے لیے سوہان روح بن سکتا ہے۔'انھوں نے مزید کہا: 'ہمیں فوری طور پر اس بیمارے کے بارے میں بہتر فہم کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ہم زیادہ دریافت کر سکیں، نئے علاج تیار کر سکیں اور زیادہ زندگیاں بچا سکیں۔'